پاکستان میں گرین انرجی اور شمسی توانائی کی پالیسی میں بنیادی اصلاحات کا فیصلہ: صنعتی و عوامی صارفین کے لیے بڑا ریلیف

اسلام آباد (ویب ڈیسک — خلوت ٹی وی):

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے پیداوری اخراجات اور عوام پر ماہانہ بلوں کے سنگین بوجھ کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے گرین انرجی اور شمسی توانائی (Solar Energy) کے شعبے میں طویل المیعاد پالیسی اصلاحات کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔

وزارتِ توانائی اور نجی شعبے کے اشتراک سے تیار کردہ اس نئے فریم ورک کا بنیادی مقصد ملک بھر میں متبادل توانائی کی پیداوار کو فروغ دینا اور قومی گرڈ پر نان ری نیوایبل ایندھن کا انحصار کم کرنا ہے۔

پالیسی کے اہم نکات اور اہداف

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی انرجی پالیسی کے تحت تین اہم اصلاحاتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں:

  1. صنعتی شعبے کے لیے رعایتی ٹیرف: مقامی انڈسٹری کو پیداواری لاگت میں ریلیف دینے کے لیے سولر گرڈز سے منسلک پیداواری یونٹس پر ٹیکس استثنیٰ اور خصوصی ترغیبات فراہم کی جائیں گی۔
  2. عوامی سطح پر نیٹ میٹرنگ کی سہولت: خانگی صارفین کے لیے سولر پینلز کی تنصیب اور نیٹ میٹرنگ کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ زائد بجلی واپس قومی گرڈ کو فروخت کی جا سکے۔
  3. دیہی علاقوں میں گرین میکانائزیشن: زراعت کے شعبے کو ٹیوب ویلز کے لیے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیزل اور مہنگی بجلی سے کسانوں کو نجات مل سکے۔

معاشی ماہرین کا تجزیہ

خلوت ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی اور توانائی امور کے ماہرین نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا گردشی قرضہ (Circular Debt) اس وقت ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، اور جب تک ملک کے اندر سستی اور پائیدار توانائی کے ذرائع پر توجہ نہیں دی جائے گی، معاشی پائیداری ممکن نہیں۔

وفاقی کابینہ کی آئندہ میٹنگ میں اس پالیسی کے آخری ڈرافٹ کی منظوری دی جائے گی، جس کے بعد اس کا تمام صوبوں میں یکساں نفاذ ممکن بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *