
نیویارک/اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ عالمی ماحولیاتی اجلاس میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہنچنے والے شدید معاشی و سماجی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران ماہرینِ ماحولیات نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں اور ماہرین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صنعتی اور ترقی یافتہ ممالک کو اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے زور دیا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ ماحولیاتی تباہی کے اسباب کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اعلامیے میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید خشک سالی اور خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کی لہروں سے متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کو فوری طور پر مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے، تاکہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر سکیں
